“A tyrant by trade, cruel by custom, sovereign of torment and lover of pain; enemy of my heart, enemy of my soul, enemy of my body—it is you.”
آپ کا پیشہ اور عادت ظلم کرنا ہے، آپ ظلم کے فرماں روا اور ظلم پسند ہیں؛ آپ ہی میرے دل، جان اور جسم کے دشمن ہیں۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے ایک نہایت پُرشوق اور تیکھا شکوہ کر رہا ہے، جس کے ہر لفظ میں بے بسی اور والہانہ محبت چھلک رہی ہے۔ وہ محبوب کو ہر طرح کے ستم کا خوگر اور اپنے دل، جان اور تن کا دشمن ٹھہراتا ہے۔ مگر حسنِ بیان دیکھیے کہ اس ظاہری شکوے کے پسِ پردہ اصل میں اسی جفا کار محبوب پر دل و جان نچھاور کرنے کا اقرار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
