“What sweet ecstasy resides in the slayer's blade, that love's own prey come willingly to rub their throats against its edge?”
قاتل کی تلوار میں ایسا کیا مزہ ہے کہ عشق کے شکار خود آ کر اپنی گردن اس پر رگڑتے ہیں۔
یہ شعر عشق کے اس جنون آمیز لطف کو بیان کرتا ہے جہاں فنا ہو جانا بھی ایک حسین کیفیت بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ معشوق کی تلوار میں جانے کیسی پُراسرار کشش ہے کہ محبت کے شکار خوف سے بھاگنے کے بجائے خود آ کر اپنی گردن اس پر رکھ دیتے ہیں۔ دراصل یہ محبوب کے آگے مکمل طور پر مٹ جانے اور سرِ تسلیم خم کرنے کی وہ لذت ہے جو ہر درد کو راحت بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
