جی دھڑکتا ہے کہیں تار رگ گل چبھ نہ جائے سیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں

“My heart trembles lest the delicate vein of a rose should pierce you, as you lay yourself down to rest upon a bed of flowers.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

میرا دل اس خوف سے دھڑکتا ہے کہ کہیں پھول کی نازک رگ بھی آپ کو چبھ نہ جائے، جب کہ آپ پھولوں کی سیج پر سونے کا ارادہ فرما رہے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کی بے مثال نزاکت اور عاشق کے دل کی بے چین محبت کا نہایت دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے۔ شاعر کا دل یہ سوچ کر ہی کانپ اٹھتا ہے کہ جب اس کا نازک اندام محبوب پھولوں کی سیج پر سونے کا ارادہ کرتا ہے، تو کہیں گلاب کی پنکھڑی کی باریک رگ بھی اسے چبھ نہ جائے۔ یہ عشق کا وہ پیارا انداز ہے جہاں محبوب کو پھولوں سے بھی زیادہ ملائم اور نازک تسلیم کیا جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.