دیکھ کر صحرا میں مجھ کو پہلے گھبرایا تھا قیس پھر جو پہچانا تو بولا حضرت من آپ ہیں

“Seeing me in the wilderness, Qais was startled at first sight; then, recognizing who I was, exclaimed: 'Ah, revered master, it is you!'”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

صحرا میں مجھے دیکھ کر قیس پہلے تو گھبرا گیا تھا، مگر جب اس نے پہچانا تو بولا، 'اے محترم، یہ تو آپ ہیں۔'

تشریح

اردو شاعری میں قیس یعنی مجنوں کو جنونِ عشق اور صحرا نوردی کا سب سے بڑا استعارہ مانا جاتا ہے۔ شاعر نے یہاں کمال کی شوخی سے کام لیا ہے کہ صحرا میں جب مجنوں نے مجھے دیکھا تو میری وحشت دیکھ کر پہلے تو وہ خود گھبرا گیا۔ مگر پہچانتے ہی اس نے احتراما پکارا کہ ’حضرتِ من آپ ہیں‘، یعنی اس نے کھلے دل سے تسلیم کر لیا کہ بربادی اور عشق کے درجے میں شاعر کا رتبہ اس سے بھی بلند ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.