“Seeing me in the wilderness, Qais was startled at first sight; then, recognizing who I was, exclaimed: 'Ah, revered master, it is you!'”
صحرا میں مجھے دیکھ کر قیس پہلے تو گھبرا گیا تھا، مگر جب اس نے پہچانا تو بولا، 'اے محترم، یہ تو آپ ہیں۔'
اردو شاعری میں قیس یعنی مجنوں کو جنونِ عشق اور صحرا نوردی کا سب سے بڑا استعارہ مانا جاتا ہے۔ شاعر نے یہاں کمال کی شوخی سے کام لیا ہے کہ صحرا میں جب مجنوں نے مجھے دیکھا تو میری وحشت دیکھ کر پہلے تو وہ خود گھبرا گیا۔ مگر پہچانتے ہی اس نے احتراما پکارا کہ ’حضرتِ من آپ ہیں‘، یعنی اس نے کھلے دل سے تسلیم کر لیا کہ بربادی اور عشق کے درجے میں شاعر کا رتبہ اس سے بھی بلند ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
