“Callous and faithless, unkind and estranged; my killer, my envier, my enemy—it is you.”
آپ بے مروت، بے وفا، نا مہربان اور نا آشنا ہیں؛ آپ ہی میرے قاتل، مجھ سے حسد کرنے والے اور میرے دشمن ہیں۔
اس شعر میں عاشق اپنے دل کی تمام کڑواہٹ اور شکوے بغیر کسی لگی لپٹی کے محبوب کے روبرو رکھ دیتا ہے۔ بے رخی، بے وفائی، قتل اور دشمنی جیسے الزامات کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ محبوب کی بے اعتنائی نے اس کے دل پر کتنے گہرے گھاؤ لگائے ہیں۔ مگر کمال یہ ہے کہ اس تمام تلخی کے باوجود وہ 'آپ' کہہ کر مخاطب ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ برباد ہو کر بھی محبوب کے احترام اور محبت کا ناطہ پوری طرح ٹوٹ نہیں پایا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
