“O Zafar, is it a longing to kiss the slayer's feet, that fatally wounded, you writhe with such ardent zeal?”
اے ظفر، کیا آپ کو قاتل کے پاؤں چومنے کی تمنا ہے کہ زخمی ہو جانے کے بعد بھی آپ اس قدر بے تابی سے تڑپ رہے ہیں؟
ظفرؔ نے اس شعر میں تڑپتے ہوئے بسمل یعنی نیم بسمل عاشق کے روایتی استعارے کو کمال نزاکت سے برتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بے تابانہ تڑپ دراصل قاتل کے قدموں کو چومنے کی چاہت ہے، جس کے بہانے وہ رینگ کر اس کے پاس جانا چاہتا ہے۔ یہ المیے اور محبت کا وہ دلکش امتزاج ہے جہاں جانکنی کا اضطراب بھی وصل اور عقیدت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
