“A stirrer of strife, unjust and cruel, bloodthirsty, vengeful, and fierce; Eager for war, avid for slaughter, hungry to slay—it is none but you.”
آپ فساد پھیلانے والے، ظالم، بے رحم، شدید ناانصاف اور کینہ پرور ہیں؛ آپ ہر وقت جنگ، قتل اور خون خرابے کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کے ناز و انداز اور بے رخی کو کسی خونخوار جنگی معرکے کے استعارے میں ڈھالا ہے۔ وہ محبوب پر پے در پے ستم گری، فتنہ پردازی اور خون بہانے کے الزامات لگا کر اُسے دلوں کو برباد کرنے والا ظالم فاتح قرار دیتا ہے۔ یہ عاشق کا ایک روایتی شکوہ ہے، جس میں محبوب کے ظلم کا رونا روتے ہوئے بھی دراصل اُس کے شوخ، بے باک اور مسحور کن جاہ و جلال کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
