“Strangler and despoiler, ravager and architect of ruin; infidel, looter, highwayman, and bandit—you are all these in one.”
آپ گلا گھونٹنے والے، لوٹ مار مچانے والے اور بربادی لانے والے ہیں؛ آپ ہی کافر، لٹیرے، ڈاکو اور رہزن ہیں۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب پر شوخی اور محبت کے ساتھ الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے، اور اُسے دل و جاں کو لوٹنے والا رہزن، قزاق اور غارت گر قرار دے رہا ہے۔ اردو غزل کی یہ دلکش روایت ہے کہ یہاں محبوب کو 'ڈاکو' اور 'کافر' کہنا دراصل اُس کے بے پناہ حسن اور قاتلانہ دلکشی کے آگے سرنگوں ہو جانے کا اعتراف ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ آپ کے جلووں نے راہزن بن کر میرا سارا چین و سکون لوٹ لیا ہے اور مجھے اپنی اس بربادی پر بھی ناز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
