“A lone warrior, a lancer, strife-seeking, fierce of art; swordsman, dagger-thruster, and archer to the heart—you are.”
آپ اکیلے حملہ آور، نیزہ باز، جھگڑالو اور تیز مزاج ہیں؛ آپ ہی تلوار چلانے والے، خنجر مارنے والے اور تیر انداز ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کو کسی نرم و نازک پیکر کے بجائے ہر ہتھیار سے لیس ایک پرشکوہ اور بے باک جنگجو کے روپ میں دکھایا ہے۔ نیزہ، تلوار، خنجر اور تیر کا پے در پے ذکر دراصل محبوب کے تیکھے تیوروں، غصیلی اداؤں اور دل کو گھائل کر دینے والی نگاہوں کی شوخ تمثیل ہے۔ یہ عاشق کا ایک بڑا دلکش اور شوخ شکوہ ہے، جس میں محبوب کے ستم کا بیان بھی ہے اور اس کے قاتلانہ حسن پر دل ہار بیٹھنے کا والہانہ اعتراف بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
