“The candle burned itself to set the moth ablaze in the gathering; without burning oneself first, is it so easy to consume another?”
محفل میں شمع نے پہلے خود جل کر پروانے کو جلایا؛ بھلا خود جلے بغیر کسی دوسرے کو جلانا کیا آسان کام ہے؟
روایتی شاعری میں ہم ہمیشہ پروانے کے فدا ہونے کا تذکرہ سنتے ہیں، مگر اس شعر میں شاعر نے بڑی خوبصورتی سے شمع کے درد کو اجاگر کیا ہے۔ شمع نے پروانے کو یونہی نہیں جلایا، بلکہ اس کے لیے پہلے خود کو موم کی طرح گھلانا اور سلگانا پڑا۔ اس میں زندگی کا یہ خوبصورت سبق چھپا ہے کہ دوسروں کے دلوں میں کوئی اثر یا جذبہ پیدا کرنے کے لیے، انسان کو پہلے خود تپش اور قربانی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
