“I lack the strength to speak my plight, what state could I unfold? / Nor has she leisure left to hear, to whom should it be told?”
مجھ میں اپنا حال بیان کرنے کی سکت نہیں ہے اور اگر بولوں بھی تو کیا کہوں، ادھر محبوب کو سننے کی فرصت نہیں تو پھر میں اپنا درد کس سے کہوں۔
یہ شعر دل کی اس بے پناہ بے بسی اور تنہائی کا نوحہ ہے جہاں دکھ انسان سے بولنے کی ہمت بھی چھین لیتا ہے۔ شاعر کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو غم نے اس میں ماجرائے دل سنانے کی سکت نہیں چھوڑی، اور دوسری طرف محبوب کی بے رخی کا یہ عالم ہے کہ اسے سننے کی ذرا پروا نہیں۔ یہ اندر ہی اندر گھٹتے چلے جانے کا وہ درد ہے جس کا مقدر صرف خاموشی بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
