“Were you a friend, I would speak to you of friendship's grace; but you harbor enmity toward me—to whom then should I plead my case?”
اگر تم دوست ہوتے تو میں تم سے دوستی کی بات کرتا، لیکن تمہیں تو مجھ سے دشمنی ہے تو اب میں کس سے کہوں؟
یہ شعر انتہائی بے بسی اور تنہائی کا نوحہ ہے جہاں دل کا سب سے پیارا شخص ہی ستم گر بن بیٹھا ہے۔ انسان اپنے سارے دکھ درد اور گلے شکوے اپنے دوست کے سامنے ہی رکھتا ہے، مگر یہاں دشمنی کرنے والا خود وہی محبوب ہے۔ شاعر بڑی دل سوزی سے سوال کرتا ہے کہ جب چارہ گر ہی زخم دینے لگے تو پھر فریاد لے کر کس کے پاس جایا جائے؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
