“In truth, I find no one who truly understands; O Zafar, to whom then should I confess the reality of my plight?”
حقیقت میں مجھے کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو مجھے اتنا سمجھ سکے؛ اے ظفر، پھر میں اپنی حقیقت کس کے سامنے بیان کروں؟
بہادر شاہ ظفرؔ اس شعر میں تنہائی اور بے گانگی کے گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں، جہاں لفظ ’حقیقت‘ کی خوبصورت تکرار سے شعر میں خاص تاثر پیدا ہوا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ زمانے میں کوئی بھی اتنی بصیرت اور گہرائی نہیں رکھتا کہ سچائی کو اس کی اصل صورت میں سمجھ سکے۔ جب سامنے والا حقیقت کو جاننے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو، تو شاعر بے بسی سے سوال کرتا ہے کہ وہ اپنے دل کا احوال اور اپنی باطنی حقیقت کس کے سامنے کھول کر رکھے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
