“You alone have been my comforter, O sorrow-laden heart; to whom else but you could I recount the pain of parting?”
اے غمگین دل، تو ہی ہمیشہ میرا غم خوار رہا ہے؛ تیرے سوا میں جدائی کا دکھ اور کس سے بیان کروں۔
اس شعر میں ہجر کے عالم کی انتہا درجے کی تنہائی بیان کی گئی ہے، جہاں دنیا میں شاعر کا دکھ بانٹنے والا کوئی نہیں بچا۔ وہ دنیا سے کٹ کر اپنے ہی رنجیدہ دل سے ہمکلام ہوتا ہے اور اسے ہی اپنا سب سے سچا ہمدرد اور رازدار پاتا ہے۔ یہ کتنی پردرد کیفیت ہے کہ جو دل خود فراق کے زخموں سے چور ہے، وہی اس کرب بھری کہانی کو سننے والا واحد سہارا بھی بن گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
