“Whomever I tell is seized with dread the moment they hear; to whom then should I recount this tale of my wild despair?”
میں جس کسی سے بھی کہتا ہوں، وہ سنتے ہی خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے؛ تو پھر میں اپنے جنون اور وحشت کی کہانی آخر کسے سناؤں؟
یہ شعر اس دلدوز تنہائی اور المیے کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان کا درد اتنا گہرا ہو کہ سننے والے بھی دہشت زدہ ہو جائیں۔ شاعر کے دل کی وحشت اور کرب اتنا شدید ہے کہ کوئی اس کی داستان سننے کا حوصلہ نہیں پاتا۔ اس بے بسی کے عالم میں وہ سوچتا ہے کہ جب غم سن کر ہی دنیا گھبرا جائے، تو انسان اپنے دل کا بوجھ آخر کس کے سامنے اتارے اور کہاں پناہ پائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
