“I gave away my heart myself, and now myself repent; in truth, to whom can I confess a shame entirely my own?”
میں نے اپنا دل خود ہی اسے دیا تھا اور اب خود ہی شرمندہ اور پشیمان ہوں؛ سچ تو یہ ہے کہ جب یہ غلطی میری اپنی ہی ہے تو اپنی ندامت کا ذکر کس سے کروں؟
اس شعر میں شاعر نے اپنے ہی فیصلے پر ہونے والے پچھتاوے کا بڑا دل سوز نقشہ کھینچا ہے۔ دل خود اپنی مرضی سے کسی کے حوالے کیا تھا، اس لیے اب جو ندامت اور دکھ ملا ہے، اس کا گلہ بھی کسی غیر سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس بے بسی کا اظہار ہے جہاں انسان اپنی ہی لغزش کا بوجھ تنہا اٹھانے پر مجبور ہو اور رو دھو کر شکوہ کرنے کے لیے بھی کوئی دوسرا موجود نہ ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
