“Neither the mountain-carver remains nor Majnun, who once shared my grief; To whom, then, should I recount this agony of love?”
اب نہ کوہ کن (فرہاد) ہے اور نہ مجنوں جو میرے ہمدرد تھے، اب میں اپنے عشق کا دکھ بھلا کس سے بیان کروں؟
شاعر اس شعر میں اپنی بے پناہ تنہائی کا نوحہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب اس دنیا میں اس کا ہمدرد کوئی نہیں بچا۔ فرہاد (کوہ کن) اور مجنوں جیسے سچے اور دیوانے عاشق، جو محبت کی اس تڑپ اور جنون کو سمجھ سکتے تھے، اب رخصت ہو چکے ہیں۔ جب دردِ دل اتنا گہرا ہو جائے کہ عام لوگ اسے محسوس ہی نہ کر سکیں، تو تنہا رہ جانا ہی سچے عاشق کا مقدر بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
