“Now that the Sheikh has conquered human hearts, what care has he for this vile world's petty parts?”
جب شیخ لوگوں کے دلوں کو فتح کر چکا ہے، تو اب اسے اس حقیر اور ناچیز دنیا سے کیا غرض یا واسطہ ہو سکتا ہے۔
اس شعر میں دلوں کو فتح کرنے یعنی 'تسخیرِ قلوب' کو سب سے بڑی کامیابی اور سلطنت قرار دیا گیا ہے۔ شاعر ایک لطیف انداز میں کہتے ہیں کہ جب شیخ صاحب نے لوگوں کے دلوں پر ہی راج قائم کر لیا، تو پھر اس حقیر اور فانی دنیا سے انہیں بھلا کیا غرض ہو سکتی ہے۔ جس انسان کو دلوں کی محبت اور عقیدت مل جائے، اس کے نزدیک مادی دنیا کے چھوٹے مفادات بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
