“The pious ascetic flees from love in vain; what concern has the lion with such feeble prey?”
زاہد بلاوجہ عشق سے پرہیز کرتا ہے، کیونکہ شیر کو بھلا کسی کمزور اور عاجز شکار سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے زاہدِ خشک پر بڑی خوبصورت چوٹ کی ہے، جو اس زعم میں عشق سے بچتا پھرتا ہے کہ مبادا عشق اسے اپنا شکار بنا لے۔ شاعر ہنس کر کہتا ہے کہ اس کا یہ ڈر بالکل فضول ہے، کیونکہ عشق تو ایک ببر شیر کی مانند ہے جو صرف جری اور باہمت دلوں کا شکار کرتا ہے۔ بھلا شیر کو زاہد جیسے کمزور اور بے روح شکار سے کیا غرض؟ سچا عشق تو جان نثاری اور حوصلے کا تقاضا کرتا ہے، جو اس نام نہاد پارسا کے پاس ہے ہی نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
