“Those who dissolve in tears merely humming to themselves—what need have they of the harp or the organ?”
جو لوگ خود ہی کچھ گنگنا کر رو پڑتے ہیں، انہیں چنگ اور ارغنوں جیسے سازوں سے کیا واسطہ۔
یہ شعر ایک ایسے خالص اور نازک درد کی ترجمانی کرتا ہے جسے کسی بیرونی ساز یا ہنگامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شاعر کہتے ہیں کہ جو حساس دل اپنے ہی دھیمے سروں میں گنگناتے ہوئے رو پڑے، اس کا اندرون خود غم کا سب سے سچا ساز بن چکا ہے۔ ایسے اہل دل کے لیے چنگ اور ارغنوں جیسے پرشکوہ ساز بالکل بے معنی ہیں، کیونکہ ان کے اپنے باطن کا سوز ہی سب سے کامل موسیقی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
