“O Sheikh, their glance holds a bewitching spell; from the company of libertines, one ought to stay away.”
اے شیخ، ان کی نگاہ جادو بھری ہے، اس لیے رندوں اور مے نوشوں کی محفل و صحبت سے دور رہنا چاہیے۔
اس شعر میں شاعر کلاسیکی طنز و ظرافت کے ساتھ شیخ صاحب کو چھیڑ رہا ہے۔ بظاہر تو یہ زاہدانہ نصیحت معلوم ہوتی ہے کہ رندوں کی صحبت سے دور رہنا چاہیے، مگر اصل ماجرا محبوب کی سحر انگیز نگاہوں کا ہے۔ شاعر پیار بھرے انداز میں یاد دلاتا ہے کہ جب نظر کا جادو چل جائے تو بڑے بڑے زاہدوں کا تقویٰ اور پرہیزگاری بھی سلامت نہیں رہ پاتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
