“Your coquettish graces and haughty airs have won my heart; feign as much indifference now as you please.”
مجھے آپ کے انداز اور ناز و نخرے پسند آ گئے ہیں، اب آپ جتنا چاہیں مجھ سے بے رخی یا چشم پوشی برت سکتے ہیں۔
شاعر اپنے محبوب کے انداز، دلکشی اور ناز و نخروں پر دل و جان سے فدا ہو چکا ہے۔ اب وہ ایک پیارے سے مان کے ساتھ کہتا ہے کہ آپ جتنا چاہیں نظرانداز یا بے رخی (اغماض) برت لیں، ہمارا دل اب پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ دراصل عاشق کے لیے محبوب کی یہ لاپروائی اور بے نیازی بھی اس کے حسن کو اور زیادہ دلکش اور پُرکشش بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
