“A deep silence has fallen upon the afflicted Hali; of his state now, whom should one ask?”
غمزدہ حالی پر مکمل خاموشی چھا گئی ہے؛ اب اس کی حالت کس سے پوچھی جائے۔
جب انسان کا دکھ حد سے بڑھ جائے تو الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور لبوں پر ایک گہری خاموشی چھا جاتی ہے۔ حالیؔ اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ خود ہی چپ سادھ چکے ہیں، تو اب ان کا احوال بھلا کس سے دریافت کیا جائے؟ یہاں شاعر کے نام ’حالی‘ اور ’حال‘ کی خوبصورت رعایتِ لفظی ہے، جو دل پر یہ بات نقش کرتی ہے کہ خاموشی دراصل بے بسی اور رنج کا سب سے آخری پڑاؤ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
