“One who cares not even for friends / Behold, such supreme indifference must be seen!”
جسے اپنے دوستوں کی بھی پروا نہ ہو، اس شخص کی بے پرواہی یا بے نیازی واقعی دیکھنے کے لائق ہے۔
اس شعر میں شاعر محبوب کی اس انتہا درجے کی بے رخی پر حیران بھی ہے اور ہلکی سی چوٹ بھی محسوس کر رہا ہے، جسے اپنے جگری یاروں کی بھی کوئی پروا نہیں۔ اردو شاعری میں 'بے نیازی' محض لاپرواہی نہیں بلکہ دل کا وہ استغنا ہے جو انسان کو دنیا اور رشتوں کے بندھن سے بالکل بے نیاز کر دیتا ہے۔ شکوہ کرنے کے بجائے شاعر ایک دلکش انداز میں داد دیتا ہے کہ محبوب کی یہ دلکش سرد مہری فی الواقع دیکھنے کے لائق ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
