“A subtle thorn of hope still lingers on; if this too should fade, what more could one desire?”
دل میں ابھی امید کی تھوڑی سی خلش باقی ہے، اگر یہ بھی مٹ جائے تو پھر اور کیا چاہیے۔
اس شعر میں شاعر نے امید کو کوئی تسلی نہیں بلکہ دل میں کھٹکتی ہوئی ایک خلش یا کانٹا قرار دیا ہے، جو انسان کو چین سے جینے نہیں دیتی۔ جب تک امید کا ایک ہلکا سا دیا بھی روشن رہتا ہے، دل تمناؤں کے تذبذب اور بے چینی کے عذاب میں تڑپتا رہتا ہے۔ شاعر دراصل اس آخری خلش کے بھی مٹ جانے کی تمنا کر رہا ہے تاکہ دل ہر قسم کی آرزو سے آزاد ہو کر کامل خاموشی اور سکون پا سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
