“To soothe the wounded heart is surely a duty; if love cannot be given, at least show courtesy.”
دکھی دل والوں کی دل جوئی کرنا لازمی ہے؛ اگر محبت نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے ساتھ خوش اخلاقی اور مدارات کا برتاؤ کرنا چاہیے۔
یہ شعر ٹوٹے ہوئے اور دکھی دلوں کے لیے درد مندی کا ایک خوبصورت پیغام ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی کو سچی محبت اور الفت نہیں دے سکتے، تو کم از کم اس کے ساتھ نرمی، اخلاق اور رواداری سے تو پیش آ ہی سکتے ہیں۔ زخم خوردہ انسان کے لیے محبت نہ سہی، مگر خیر خواہی اور دلجوئی کے دو بول بھی کسی بڑے مرہم سے کم نہیں ہوتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
