“What good are desires, if the self is not gone?They only multiply cravings, to no good end.”
خود کے مٹے بغیر خواہشیں کس کام کی ہیں؟ وہ تو صرف بے کار میں خواہشوں کو بڑھاتی ہیں۔
یہ دوہا ہمیں گہرا درس دیتا ہے کہ جب تک ہمارا 'انا' یا 'خود' مکمل طور پر تحلیل نہیں ہو جاتا، خواہشات کا پیچھا کرنا بے فائدہ ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے ایک چھلنی میں پانی بھرنا – ہم جتنی زیادہ خواہشیں پوری کرتے ہیں، اتنی ہی مزید پیدا ہوتی جاتی ہیں، اور کبھی حقیقی سکون نہیں ملتا۔ شاعر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچی تسکین بیرونی چیزوں سے نہیں، بلکہ اپنے نفس کو مٹانے میں پوشیدہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
