“In discourse, his worth was clearly weighed,But as a guru, by pride he was swayed.”
بحث و مباحثے میں ان کی قابلیت اور قدر کا اندازہ لگایا گیا، لیکن جب وہ گرو بنے، تو تکبر میں ڈوب گئے یا اپنے اصلی اوصاف سے بھٹک گئے۔
یہ شعر انا کے جال میں پھنسنے کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ جب تک وہ بحث و مباحثہ میں تھے، ان کے علم کو تولا گیا اور اس کی قدر ہوئی۔ مگر جیسے ہی وہ گرو بنے، ان کا تکبر "من" (وزن کی ایک اکائی) جتنا بڑھ گیا، جس کا مطلب ہے کہ وہ غرور سے پھول گئے اور اپنی اصلی عاجزی و پہچان کھو بیٹھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ رتبہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، عاجزی ہی علم کا سچا زیور ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
