“When the iron's brilliance makes a mirror bright,Reflecting forms, it puts all troubles to flight.”
جب لوہے کی چمک ایک آئینہ بناتی ہے اور اس میں شکلیں منعکس ہوتی ہیں، تو تمام مشکلات دور ہو جاتی ہیں۔
یہ شعر لوہے کے آئینہ بننے کی خوبصورت بات کرتا ہے۔ جس طرح عام لوہا چمک کر آئینہ بن جاتا ہے اور عکس دکھاتا ہے، بالکل اسی طرح جب ہم اپنی اندرونی چمک کو سنوارتے ہیں اور وضاحت حاصل کرتے ہیں، تو زندگی کی بہت سی الجھنیں خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔ یہ خود کو سمجھنے اور واضح نظر حاصل کرنے کا ایک پیارا استعارہ ہے، جس سے دل پرسکون ہو جاتا ہے اور مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
