પાછો વળી ઘડાયે ઘાટ
તેમનો તેમ પોગરનો ઠાઠ.
“The form can be reformed again, Yet the flower's glory will remain.”
— اکھا بھگت
معنی
شکل کو دوبارہ ڈھالا جا سکتا ہے۔ مگر پھول کی شان و شوکت ویسی ہی برقرار رہتی ہے۔
تشریح
یہ شعر ہمیں یہ خوبصورت بات بتاتا ہے کہ اگرچہ بیرونی شکل و صورت کو بار بار بدلا اور نیا روپ دیا جا سکتا ہے، لیکن پھول کی اپنی شان اور وقار ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ یہ ایک گہرا خیال ہے جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی چیز کی اندرونی خوبصورتی یا اس کا حقیقی جوہر کبھی نہیں بدلتا، چاہے اس کے بیرونی قالب میں کتنی ہی تبدیلیاں کیوں نہ آ جائیں۔ یہ ہماری روح یا فطرت کے اٹل رہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
