“One high in status, deem not high in worth,Nor are the humble, ignoble from their birth.”
اعلیٰ حیثیت والے کو بالذات برتر نہ سمجھیں اور نہ ہی کم حیثیت والے کو کمتر۔ کسی کی حقیقی قدر اس کے کردار سے طے ہوتی ہے، نہ کہ سماجی مرتبے سے۔
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی عظمت یا شرافت پیدائش یا رتبے سے نہیں بلکہ انسان کے کردار اور اعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ ایک گہرا سبق ہے کہ ہمیں کسی کو اس کی ظاہری حیثیت سے اونچا یا نیچا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جسے معاشرہ 'اعلیٰ' سمجھتا ہے، وہ اندر سے خالی ہوتا ہے، اور جسے 'کمتر' مانا جاتا ہے، وہ درحقیقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی قدر اس کے باطنی اوصاف سے کریں، نہ کہ اس کی سماجی حیثیت سے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
