“The flow is not seen, the wave appears to sight,So consciousness is not seen, the body shines forth bright.”
جیسے پانی کا بہاؤ دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کی لہر دکھائی دیتی ہے؛ اسی طرح شعور دکھائی نہیں دیتا بلکہ جسم دکھائی دیتا ہے۔
یہ خوبصورت دوہا ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی دکھائی دیتا ہے اور کیا اس کے پیچھے چھپا ہے۔ ذرا سمندر کے بارے میں سوچیے: ہمیں سطح پر ناچتی ہوئی لہریں تو صاف دکھائی دیتی ہیں، لیکن وہ طاقتور، مسلسل بہاؤ جو انہیں جنم دیتا ہے، ہماری آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح، شاعر کہتے ہیں کہ ہم اپنے مادی جسم کو تو واضح طور پر دیکھتے ہیں، مگر جو شعور یا روح اسے حقیقت میں زندہ کرتی ہے، اس کا بنیادی جوہر، اس پوشیدہ بہاؤ کی طرح غیر مرئی رہتا ہے۔ یہ ہمیں ظاہری دکھاوے سے پرے، گہری باطنی سچائی کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
