“The poor mice make a clamor,who lack the strength for flight.”
غریب چوہے شور مچاتے ہیں، جن میں اڑنے کی طاقت نہیں ہے۔
یہ شعر بے بس لوگوں کی ایک دردناک تصویر پیش کرتا ہے، جس میں چوہے کو ایک استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا 'شور' محض آواز نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کی مایوس کن پکار ہے جن کے پاس اپنی مشکلات سے 'اڑنے کی طاقت' نہیں ہے، یعنی اپنی حالت سے نکلنے یا اوپر اٹھنے کا کوئی ذریعہ یا اختیار نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی مجبوری کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جو آواز تو اٹھاتے ہیں لیکن حقیقت میں کسی بھی مؤثر طاقت سے محروم ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
