پبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجئے مجھ سے صاحب مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے

“Just shake my hand before the crowd, sir, in the public view; if there is any price upon my faith, this is the only fee.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

جناب، ذرا لوگوں کے سامنے مجھ سے ہاتھ ملا لیجیے؛ اگر میرے ایمان کی کوئی قیمت ہے تو بس یہی ہے۔

تشریح

اس شعر میں ایک گہرا طنز اور بڑی تلخ سچائی چھپی ہے۔ شاعر کسی بااثر اور صاحبِ اقتدار شخص سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر میرے ضمیر اور ایمان کا کوئی سودا ہو سکتا ہے، تو وہ دولت نہیں بلکہ بس بھرے مجمعے میں آپ کا مجھ سے ہاتھ ملا لینا ہے۔ یہ دراصل انسانی کمزوری اور سستی شہرت کی بھوک پر چوٹ ہے، جہاں طاقتور کی ذرا سی توجہ کی خاطر انسان اپنی سب سے قیمتی متاع لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.