غزل

معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے

معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 5 shers· radif: है तो ये है

یہ غزل حسن، جدیدیت اور حصولِ علم پر ایک پُرمزاح اور طنز و ظرافت سے بھرپور تبصرہ ہے۔ شاعر نے شوخ انداز میں بیان کیا ہے کہ کس طرح ظاہری خوبصورتی اور دلکشی سنجیدہ علم و معنی پر غالب آ کر سب کو مسحور کر لیتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मा'नी को भुला देती है सूरत है तो ये है नेचर भी सबक़ सीख ले ज़ीनत है तो ये है
معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے نیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہے
2
कमरे में जो हँसती हुई आई मिस-ए-राना टीचर ने कहा इल्म की आफ़त है तो ये है
کمرے میں جو ہنستی ہوئی آئی مس رعنا ٹیچر نے کہا علم کی آفت ہے تو یہ ہے
3
ये बात तो अच्छी है कि उल्फ़त हो मिसों से हूर उन को समझते हैं क़यामत है तो ये है
یہ بات تو اچھی ہے کہ الفت ہو مسوں سے حور ان کو سمجھتے ہیں قیامت ہے تو یہ ہے
4
पेचीदा मसाइल के लिए जाते हैं इंग्लैण्ड ज़ुल्फ़ों में उलझ आते हैं शामत है तो ये है
پیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈ زلفوں میں الجھ آتے ہیں شامت ہے تو یہ ہے
5
पब्लिक में ज़रा हाथ मिला लीजिए मुझ से साहब मिरे ईमान की क़ीमत है तो ये है
پبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجئے مجھ سے صاحب مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.