پیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈ زلفوں میں الجھ آتے ہیں شامت ہے تو یہ ہے

“They journey to England to unravel affairs tangled and deep, / Yet return ensnared in tresses—such is the misfortune they reap.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

لوگ پیچیدہ مسائل سلجھانے کے لیے انگلینڈ جاتے ہیں مگر زلفوں میں الجھ کر آ جاتے ہیں، اصل شامت اور بدقسمتی تو یہی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اکبر الہٰ آبادی نے بڑے ہی پرلطف اور مزاحیہ انداز میں مغرب کا رخ کرنے والے نوجوانوں کی چٹکی لی ہے۔ لوگ تو ملک و قوم کے الجھے ہوئے پیچیدہ مسائل سلجھانے انگلینڈ جاتے ہیں، مگر وہاں پہنچ کر کسی نازنین کی زلفوں کے پیچ و خم میں خود ہی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جو عقل دنیا کی مشکل ترین گتھیاں سلجھانے نکلی تھی، وہ حسن کے سامنے یوں بے بس ہو گئی کہ شاعر اسی کو سب سے بڑی اور دلکش شامت قرار دے رہا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.