“The path of God lies open still, each sign and trace stands true; yet servants of the Lord have ceased to walk that path anew.”
اللہ کا راستہ اب بھی کھلا ہے اور اس کے تمام نشانات قائم ہیں، لیکن اللہ کے بندوں نے اس راستے پر چلنا چھوڑ دیا ہے۔
یہ شعر انسانی غفلت اور روحانی بے حسی پر ایک گہرا اور دل گداز تبصرہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حق، سچائی اور ہدایت کا راستہ کبھی بند نہیں ہوا اور اس کے تمام نشانات آج بھی اپنی جگہ جگمگا رہے ہیں۔ سارا المیہ تو یہ ہے کہ خدا کے بندوں نے خود دنیاوی الجھنوں میں کھو کر اس پُرنور راہ پر قدم بڑھانا چھوڑ دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
