“While the breeze of devotion stirred my soul, hope's tree was lush and green; When the biting gale of sin began to blow, it ceased to bear its fruit.”
جب ذہن میں خدا کی اطاعت کا جذبہ تھا تو امید کا درخت ہرا بھرا تھا، لیکن جب گناہوں کی تند و تیز ہوا چلی تو اس درخت نے پھل دینا چھوڑ دیا۔
اس شعر میں شاعر نے انسان کی باطنی کیفیت کو ایک دلکش استعارے کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جب تک دل و دماغ میں بندگی، خلوص اور نیکی کی نرم ہوا چلتی رہی، امید کا شجر ہرا بھرا تھا اور ہر سمت خیر کا گمان تھا۔ مگر جوں ہی گناہوں اور نافرمانی کی تند و تیز آندھی چلی، وہ سبزہ مرجھا گیا اور زندگی بے ثمر ہو گئی۔ یہ شعر بڑی سادگی سے یاد دلاتا ہے کہ روح کی پاکیزگی ہی ہمارے خوابوں اور امیدوں کو زندہ رکھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
