“When fortune ceased to favor me, wherever my steps were laid, the springs refused to bubble forth, the trees withdrew their shade.”
جب قسمت مہربان نہ رہی تو جس بھی مقام پر قدم رکھا، وہاں درختوں سے سایہ دور ہو گیا اور چشموں نے ابلنا چھوڑ دیا۔
یہ شعر اس سچائی کی بڑی دلنشین تصویر کشی کرتا ہے کہ جب انسان کا مقدر اس سے منہ موڑ لے، تو قدرت کی ہر مہربان شے بھی بے مروت دکھائی دینے لگتی ہے۔ شاعر نے درختوں کے سائے سمٹ جانے اور چشموں کے سوکھ جانے کے استعاروں سے بتایا ہے کہ بدقسمتی کس طرح قدم قدم پر محرومی بن کر سامنے آتی ہے۔ جہاں جہاں وہ تھکا ہارا مسافر قدم رکھتا ہے، زندگی کا سکون اور ہر آسائش دھوپ کی طرح جھلسانے لگتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
