“How can these youths give strength to faith when none inspires their soul? / How can these boys hold to their senses when she herself has lost control?”
یہ نوجوان دین کو کیا طاقت دیں گے جب کوئی ان کی ہمت بڑھانے والا ہی نہیں ہے، اور یہ لڑکے ہوش کیسے سنبھالیں جب خود محبوب نے ہی سنبھلنا چھوڑ دیا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے نوجوان نسل کی بے راہ روی پر بڑے دل نشین اور ہمدردانہ انداز میں طنز کیا ہے۔ جب نئی نسل کا حوصلہ بڑھانے اور رہنمائی کرنے والا کوئی بزرگ یا استاد ہی نہ رہے، تو وہ بھلا دین اور اقدار کا بوجھ کیسے اٹھائیں؟ بالکل اسی طرح جیسے محبوب کے بے قابو حسن اور لاپروائی کو دیکھ کر دیوانوں کے ہوش گم ہو جاتے ہیں، جب رہبر خود ہی توازن کھو بیٹھے تو نوجوانوں سے سنجیدگی کا تقاضا کرنا بے معنی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
