کیا دین کو قوت دیں یہ جواں جب حوصلہ افزا کوئی نہیں کیا ہوش سنبھالیں یہ لڑکے خود اس نے سنبھلنا چھوڑ دیا

“How can these youths give strength to faith when none inspires their soul? / How can these boys hold to their senses when she herself has lost control?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

یہ نوجوان دین کو کیا طاقت دیں گے جب کوئی ان کی ہمت بڑھانے والا ہی نہیں ہے، اور یہ لڑکے ہوش کیسے سنبھالیں جب خود محبوب نے ہی سنبھلنا چھوڑ دیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے نوجوان نسل کی بے راہ روی پر بڑے دل نشین اور ہمدردانہ انداز میں طنز کیا ہے۔ جب نئی نسل کا حوصلہ بڑھانے اور رہنمائی کرنے والا کوئی بزرگ یا استاد ہی نہ رہے، تو وہ بھلا دین اور اقدار کا بوجھ کیسے اٹھائیں؟ بالکل اسی طرح جیسے محبوب کے بے قابو حسن اور لاپروائی کو دیکھ کر دیوانوں کے ہوش گم ہو جاتے ہیں، جب رہبر خود ہی توازن کھو بیٹھے تو نوجوانوں سے سنجیدگی کا تقاضا کرنا بے معنی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.