“There are promises to remind them of, and grievances beyond measure; if only they would appear in sight, if only we could meet.”
ہم انہیں ان کے وعدے بھی یاد دلاتے اور ڈھیر سارے شکوے گلے بھی کرتے، مگر پہلے وہ نظر تو آئیں اور ان سے ملاقات تو ہو۔
یہ شعر دل میں مچلتے ہوئے اُن تمام شکووں اور وعدوں کی داستان ہے جنہیں عاشق اپنے محبوب کے سامنے دہرانے کے لیے بے چین رہتا ہے۔ انسان دل ہی دل میں شکایتوں کی ایک لمبی فہرست تیار تو کر لیتا ہے، مگر اصل المیہ اور بے بسی یہ ہے کہ وہ نظر ہی نہیں آتے جن سے گلہ کیا جا سکے۔ دراصل روٹھنا اور منانا بھی تو تبھی ممکن ہے جب آمنا سامنا ہو، اور اسی کسک کو شاعر نے کمال سادگی سے لفظوں میں پرویا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
