“No preacher can surpass Nature in eloquence divine, If only humankind had the discernment to read each subtle sign.”
فطرت سے بڑھ کر کوئی نصیحت کرنے والا فصیح و بلیغ نہیں ہے، بشرطیکہ انسان میں اس کے اشاروں کو سمجھنے کا فہم اور عقل ہو۔
شاعر کہتے ہیں کہ قدرت سے بڑا کوئی واعظ اور استاد نہیں ہو سکتا، جس کی خاموش جلوہ گری اور اشارے کسی بھی زبانی خطبے سے کہیں زیادہ بلیغ اور پُراثر ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ انسان دنیا کے شور میں اتنا گم ہو چکا ہے کہ وہ کائنات کے اِن خاموش اور پُرحکمت اشاروں کو سمجھنے کی باطنی سمجھ بوجھ سے محروم ہو گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
