دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیں باطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو

“Who lacks a taste for pure wine that gladdens the heart? / If only there were a tavern master who could illuminate the soul within.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

دل کو خوش کرنے والی شفاف شراب کا شوق کسے نہیں ہوتا، بس کوئی ایسا پیرِ خرابات تو ہونا چاہیے جو انسان کے باطن کو روشن کر سکے۔

تشریح

اس شعر میں 'بادۂ صافی' سے مراد وہ پاکیزہ روحانی سرور اور عرفان ہے جس کی طلب ہر انسان کے دل میں فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ دل کو شاداب کرنے والے اس روحانی نشاط کا شوقین تو ہر کوئی ہے، مگر کمی کسی ایسے سچے مرشد اور رہبر کی ہے جو ظاہر کے بجائے باطن کو نور سے بھر سکے۔ یہ پیاس دراصل شراب کی نہیں بلکہ ایک کامل رہنما کی جستجو ہے جو روح کے اندھیروں کو دور کر سکے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.