دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیے کسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو

“The heart is restless to confess its deep devotion; let a miracle reveal itself from somewhere first.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

دل اپنی عقیدت اور محبت ظاہر کرنے کے لیے بے چین ہے، مگر پہلے کسی طرف سے کوئی کرامت یا معجزہ تو ظاہر ہو۔

تشریح

یہ شعر عقیدت اور محبت کی اس کشمکش کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جہاں دل خود کو سونپ دینے کے لیے بے قرار ہے، مگر ساتھ ہی کسی اشارے کا منتظر بھی ہے۔ 'ارادت' دل کی سچی سپردگی کو کہتے ہیں، لیکن شاعر کی تمنا بس اتنی ہے کہ دوسری طرف سے بھی تو کوئی ایسا معجزہ یا کرامت نظر آئے جو اس جذبے کو سنبھال سکے۔ دراصل یہ انسان اور معبود، یا عاشق اور محبوب کے درمیان اس پُرامید رشتے کی تصویر ہے جو محض ایک کرشمے کی بنیاد پر قربان ہونے کو تیار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.