“Drink that very wine, O longing, and let reason sleep a while; for the guest of my sight this moment is a lightning flash of divine radiance.”
اے شوق، تُو وہی شراب پی لے اور اے ہوش، ذرا سو جا؛ کیونکہ اس وقت میری نظروں کا مہمان نور کی ایک چمکتی بجلی ہے۔
اس شعر میں شاعر ہوش اور عقل کو تھوڑی دیر سونے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ عشق اور شوق کی بے خودی پوری طرح غالب آ سکے۔ دراصل اس گھڑی نگاہوں کے سامنے حسنِ ازل یا جلوۂ یار کی ایک ایسی بجلی مہمان بن کر چمکی ہے جسے عام حواس میں برداشت کرنا ممکن نہیں۔ یہ اس والہانہ لمحے کا بیان ہے جہاں عقل و منطق کا دخل ختم ہو جاتا ہے اور انسان سراپا حیرت بن کر رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
