“I care not for that wine to which the heart remains estranged; my quest is for that wine alone which is distilled within the heart.”
مجھے اس شراب سے کوئی واسطہ نہیں جس سے دل بیگانہ رہے، میرا مقصد تو صرف اسی شراب سے ہے جو خود دل کے اندر کشید ہوتی ہے۔
شاعر یہاں مے اور شراب کو روحانی کیف اور باطنی جذبے کے استعارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس ظاہری اور روایتی نشے کی کوئی ضرورت نہیں جس سے روح بے خبر اور بیگانہ ہی رہے۔ میری طلب تو بس اس سچی سرمستی اور محبت کی مے سے ہے جو انسان کے اپنے دل کے سوز، گداز اور احساسات سے کشید ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
