“These sermons of the preacher stem purely from his naivety; What could he know of this ecstasy—ask him, has he ever tasted wine?”
واعظ کی یہ باتیں صرف اس کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہیں۔ وہ اس کیفیت اور رنگ کو کیا جانے، ذرا اس سے پوچھو تو سہی کہ کیا اس نے کبھی شراب پی بھی ہے؟
شاعر اس شعر میں واعظ کی خشک نصیحتوں پر چٹکی لیتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی ساری باتیں محض ناتجربہ کاری کا نتیجہ ہیں۔ اردو شاعری میں 'مے' یا پینا محض مادی نrepہ نہیں، بلکہ عشق کی وارفتگی اور روحانی سرور کا استعارہ ہے۔ جب واعظ نے خود کبھی اس لطف کا گھونٹ پیا ہی نہیں، تو وہ اس رنگ کی گہرائی کو کیسے سمجھے گا؟ سچ تو یہ ہے کہ جس نے محبت اور کیف کا ذائقہ نہ چکھا ہو، اس کا فتوٰی بے معنی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
