“Why is such an uproar raised if I have sipped a little wine? I haven't committed robbery, nor stolen what wasn't mine.”
اگر تھوڑی سی شراب پی ہی لی ہے تو اتنا ہنگامہ کیوں برپا ہے؟ میں نے کوئی ڈاکہ تو نہیں ڈالا اور نہ ہی کوئی چوری کی ہے۔
یہ شعر معاشرے کے کھوکھلے پن اور دوہرے معیار پر ایک بہت ہی چٹخارے دار اور کاٹ دار طنز ہے۔ شاعر بڑی معصومیت اور بے باکی سے پوچھتا ہے کہ ذرا سی مے نوشی پر اتنا طوفان کیوں کھڑا کر دیا گیا ہے، جبکہ اس نے کسی کا حق چھینا ہے نہ کوئی گناہِ کبیرہ کیا ہے۔ اردو شاعری میں یہاں مے پینا رسمی دنیا کی منافقت سے الگ ہو کر اپنے سچ میں جینے کا استعارہ ہے، جسے نام نہاد پارسا لوگ کبھی ہضم نہیں کر پاتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
