“In death's last throes I lie—their coming would be grace indeed; yet let them understand: this dying breath is not a spectacle to see.”
میں نزع کی حالت میں آخری سانسیں لے رہا ہوں، اگر وہ آئیں تو ان کا احسان ہوگا، لیکن وہ یہ سمجھ لیں کہ کسی کی جان نکلنا کوئی تماشا نہیں ہوتا۔
اس شعر میں نزع کے عالم کی بے بسی اور عاشق کی خودداری کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی آمد کو احسانِ عظیم تو گردانتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ باور کرا دیتا ہے کہ اس کی جانکنی کوئی سستا تماشا نہیں کہ لوگ محض دیکھنے چلے آئیں۔ یہاں محبت کی آخری التجا بھی ہے اور اپنے وقار و غیرت کی ایک پروقار پاسداری بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
