ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

“If we so much as breathe a sigh, infamy becomes our share; yet even when they commit murder, no whisper stirs the air.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اگر ہم محض آہ بھی بھرتے ہیں تو بدنام ہو جاتے ہیں، جبکہ وہ قتل بھی کر دیں تو اس کا چرچا تک نہیں ہوتا۔

تشریح

اکبر الہ آبادی کا یہ لافانی شعر معاشرے کے دوہرے معیار اور کھلی ناانصافی پر ایک بے ساختہ اور گہرا طنز ہے۔ شاعر نے آہ بھرنے جیسی معصومانہ سسکی اور قتل جیسے سنگین جرم کا موازنہ کر کے دکھایا ہے کہ دنیا کس قدر بے مروت ہے۔ یہ دراصل کمزور اور بااثر شخص کے درمیان کا وہ المیہ ہے، جہاں طاقتور کا ہر ظلم خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے جبکہ مظلوم کا معمولی سا شکوہ بھی رسوائی کا سبب بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.